نیوارا انگلش میڈیم اسکول معیارِ تعلیم کا دبستان

 


نیوارا انگلش میڈیم اسکول معیارِ تعلیم کا دبستان


جس وقت معیار تعلیم کا ذکر ہوتا ہے تو آج ہر خاص و عام کی زباں پر یہی بات کہنے اور سننے کو ملتی ہے کہ معیار تعلیم گرگیا ہے اب طالبانِ علم و ہنر میں اقبال کے شاہین کی روح باقی نہیں....... یا یہ کہا جائے کہ دبستان علم و ہنر ہی ایسے نہ رہے، اس ذمن میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ دبستانِ شبلی سے وجودِ اقبال، آزاد، ندوی نہ دارد.......یا بالفاظ دیگر یہ کہا جاتا ہے پہلے راقم اور مفکرینِ تعلیم کچھ اس طرح لکھا کرتے تھے کہ ہمارے زمانے میں تعلیمی نظام ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ اصطلاح تغیر کے ساتھ پائی جاتی ہے جسے کچھ اس طرح بھی لکھا جاتا ہے نظامِ تعلیم اور کیونکر نہ بھی لکھا جائے..... جواز بالکل واضح ہیں کہ دنیائے علم و ادب نے زمانے کی تبدیلیوں کو اپنا متن بنایا جس سے بامعنی علم کے حصول کی جانب زندگی رواں دکھائی دیتی ہے اور اس صورتحال اگر فی زمانہ طالبانِ علم و ہنر ، اسکولی نظامِ تعلیم اور افرادِ روح رواں اگر مجموعی طور پر اس پر توجہ نہ دیں تو حصولِ علم بڑے خسارے میں ہی نظر آئے گا...... لیکن گر کسی ادارے میں ایسا نہیں ہوتا ہے تو یہ اس بات کا غماز ہے کہ اس ادارے کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ادارے کا ذمہ دار، پرنسپل، اساتذہ اور دیگر امور انجام دینے والے افراد رحمتِ باری تعالیٰ کے مصداق ہیں اور الحمد للہ یہ بات شہر مالیگاؤں کے اس ادارے پر اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ صداق آتی ہے جسے نیوارا انگلش میڈیم اسکول کہتے ہیں، عموماً انگلش میڈیم اسکولوں میں اس المیے کو دیکھا گیا ہے کہ اساتذہ کو نہایت کم تنخواہ پر سروس کرنا ہوتا ہے اور اس کے بدلے کام کا لوڈ اتنا ہوتا ہے کی انکو چھٹی ہونے کے بعد اور چھٹی کے دن بھی اسکول کا کام کرنا پڑتا ہے جس کی تنخواہ نہایت معمولی ہوتی ہے اور اساتذہ اسطرح کی تکالیف کا سامنے کے سبب ملازمت ترک کردیتے ہیں لیکن یہ نیوارا انگلش میڈیم اسکول کے اساتذہ سے گفتگو کے دوران یہ بات واضح ہوئی کہ مالیگاؤں کی تقریباً تمام ہی انگلش میڈیم اسکول سے زیادہ تنخواہ نیوارا اسکول اپنے اساتذہ کو دیتا ہے، دورانِ گفتگو ایک عام پرشش یہ بھی رہی کہ سنا ہے آپ اساتذہ کو وقت پر تنخواہ نہیں ملتی..... جس کا جواب بہت اطمینان بخش معلمِ نیوارا نے یہ دیا کی کسی زمانے میں یہ بات کچھ ماہ کے لیے تھی لیکن اب ایسا نہیں ہوتا ہر ماہ تنخواہ کے ساتھ جو تعاؤن انتظامیہ کی جانب سے ملتا ہے وہ قابلِ احترام ہے اور یہی نہیں اس ادارے میں زیر تعلیم طلباء کو بھی ہمہ وقت تعلیم سے جوڑے رکھنا، نت نئی تحقیقات، اور طریقہ تدریس، اساتذہ کی محنت، ہر ماہ رزلٹ کو کس طرح پروگرس کیا جائے اس پر عمل و تحقیق، تعلیم اور تفریح کے لیے نہایت عمدہ انتظامات، جس کی مشال حالیہ دنوں گجرات طلباء و اساتذہ کا ایک معلوماتی اور تفریح سفر رہا ہے. نیوارا انگلش ہر سال ترقی کے مدارج کو طے کررہا ہے جس کے اہم پہلو یہ بھی ہوسکتے ہیں کی بہترین گرین کیمپس، زبردست انفراسٹرکچر، قابلِ ذکر نظام تعلیم، باہنر، باصلاحیت تجربہ کار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کا بہترین اسٹاف مینجمننگ دائریکڑ کا مشفق مزاج اور تعاؤن، امتحانات سے قبل امتحانات کی تیاریاں، ہر سماجی اور قومی تہوار کا زبردست اہتمام وغیرہ شامل ہیں اور ان سب میں جو بات سب سے ممتاز نظر آتی ہے وہ یہ کہ 


یہاں کی خاک سے انساں بنائے جاتے ہیں......


والدین اور کئ سرپرست حضرات سے دوران گفتگو یہ بات بھی قابلِ ذکر رہی کہ نیوارا انگلش میڈیم اسکول میں پڑھنے والے بچے نہایت مہذب اور بڑے ہی سلیقہ مند ہوتے ہیں کہنے والے شخص نے یہ بھی بتایا کہ میرے بچے نے ایک روز بتایا کہ ہماری اسکول میں راستہ چلنے کے آداب بھی سکھائے جاتے ہیں، نیوارا اسکول میں عصری تعلیم پر توجہ دی ہی جارہی ہے بلکہ دینی علوم پر بھی خاص توجہ مرکوز ہے.... بات اگر کی جائے کہ عصری تعلیم کا کیا معیار ہے اس ادارے میں تو یہ بات اس ادارے کے قابل اساتذہ اور طلباء کی محنت سے اجاگر ہے کہ ہر سال نیوارا انگلش میڈیم اسکول کا دسویں یعنی SSC BOARD کا رزلٹ صد فیصد ہے امسال چار طلباء ایسے رہے ہیں جن کا فی صد ٪91 سے اوپر ہے..... جو کہ قابلِ تحسین ہے. جس کی سرہانہ کے لیے ٹاپ کرنے والے طلباء کو برانڈیڈ کمپنی کے لپ ٹاپ اور دیگر تحائف دینے کا اعلان کیا گیا ہے معلومات حاصل کرنے پر یہ بات علم میں آئی کہ گزشتہ سال دسویں جماعت میں ایک طالب علم بنام محمد صارم تھے جو داعی اجل کو لبیک کہےگئے اس سانحے کا بڑا غم چیرمین اظہر مہدی کو رہا جس کی یاد اور معصومیت کو موصوف چیرمین نے بیاد بنادیا اور ہر سال دسویں جماعت میں ٹاپ کرنے والے طلباء کو ایک بڑی کامیابی کا تمغہ، ترقی کا نشانِ امتیاز، اسکول ،  چیرمین اور اساتذہ کی محبت اور انسیت کا لازوال تحفہ بنام صارم ایوارڈ فار اکسلنس دینے کا اعلان کردیا. شاید ہی فی زمانہ مالیگاؤں شہر میں کسی انگلش میڈیم اسکول میں اس طرح کے احسن اقدامات، معیار تعلیم اور بالخصوص تربیت پر توجہ دی جاتی ہوتی یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک علم کے ع میں تربیت کے ت کا امتزاج نہ ہو. 

 

Comments

Popular posts from this blog

میٹنگ

News Reporting (This would help SSC & HSC students)